ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہبی تعصب کورونا سے جنگ کمزور کردے گا: مختار عباس نقوی

مذہبی تعصب کورونا سے جنگ کمزور کردے گا: مختار عباس نقوی

Wed, 22 Apr 2020 17:00:30    S.O. News Service

نئی دہلی، 22؍اپریل (ایس او نیوز؍یواین آئی) مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ سیکولرازم اور ہم آہنگی ہندوستان اور ہندوستانیوں کے لئے ’سیاسی فیشن‘ نہیں بلکہ ’پرفیکٹ پیشن‘ (جنون وجذبہ) ہے اور اسی باہمی اقداراورپختہ عزائم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو کثرت میں وحدت کے فارمولہ میں باندھ رکھا ہے۔

مسٹر نقوی نے منگل کو یہاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا”اقلیتوں سمیت ملک کے تمام شہریوں کے آئینی، سماجی اور مذہبی حقوق ہندوستان کی آئینی اور اخلاقی ضمانت ہے۔کسی بھی حالت میں ہماری کثرت میں وحدت کی طاقت کمزور نہیں ہو سکتی۔ ہمیں ہوشیار اور متحد ہو کر ایسی قوتوں کے پروپیگنڈے کو شکست دینا ہے“۔انہوں نے کہا کہ فیک نیوز اور اشتعال انگیز باتوں اور افواہ پھیلانے والی سازش سے ہم لوگوں کو ہوشیار رہنا چاہئے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان میں تمام شہریوں کی حفاظت کے لئے کام ہو رہا ہے۔ اس طرح کی سازش سے کورونا وائرس کے خلاف ملک کی اجتماعی جنگ کو کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ وزیراعظم کی قیادت میں پورا ملک متحد ہوکر مذہب،علاقائیت،ذات پات کی تنگ قیودوحدود سے اوپر اٹھ کرکورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔مرکزی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اقلیتوں کے لئے اور خاص طور پر مسلمانوں کے لئے جنت ہے،ان کے سماجی، اقتصادی، مذہبی حقوق ملک میں پختہ اور مستحکم ہیں۔اگر کوئی تعصب میں مبتلا ہو کر کسی قسم کی بات کر رہا ہے تو اسے اس ملک کی زمینی حقیقت کودیکھنا چاہئے اور اسے قبول کرنا چاہئے۔ اس ملک میں بڑی تعداد میں مسلم رہتے ہیں۔ان کی گذشتہ ساڑھے پانچ برسوں کی حکومت کے کاموں کا تجزیہ کرکے دیکھیں گے تو پتہ چلتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد بڑھی ہے، تعلیم کے میدان میں وہ آگے بڑھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقتصادی طور پر خود کفیل بنانے کی سمت میں وہ آگے بڑھے ہیں۔ سماج کے دیگر طبقوں کی طرح مسلمان بھی اونچی شرح ترقی میں شراکت دار بنے ہیں۔ اگر ملک ترقی کر رہا ہے تو مسلمان بھی ترقی کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی جب بھی ہم وطنوں کی بات کرتے ہیں تو وہ 130 کروڑ ہندوستانیوں کے لئے بات کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ سب کی خوشحالی اور ترقی کی بات کرتے ہیں اور اگر کسی کو یہ سب نہیں دکھائی پڑ رہاہے تو یہ دیکھنے والوں کا قصور ہے۔ نقوی نے کہا کہ ملک کے تمام مسلم مذہبی رہنما، اماموں، مذہبی وسماجی تنظیموں اور ہندوستان کے مسلم سماج نے مشترکہ طور پر 24 اپریل سے شروع ہو رہے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گھروں پر ہی رہ کر عبادت، افطار اور دیگر مذہبی فرائض کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کے قہر سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مذہبی، عوامی، ذاتی اراضی پرلاک ڈاؤن، کرفیو، سوشل ڈسٹنسنگ کا مؤثر طریقے سے عمل کرنے اور لوگوں کو اپنے اپنے گھروں پر ہی رہ کر عبادت وغیرہ کے لئے بیدار کرنے کے لئے ملک کے 30 سے زیادہ ریاستی وقف بورڈز نے مسلم مذہبی رہنماؤں، اماموں، مذہبی-سماجی تنظیموں، مسلم سماج اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا ہے۔پورا ملک متحد ہوکرکورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مسٹر نقوی کی صدارت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہونے والی میٹنگ میں تمام ریاستی وقف بورڈز نے رضامندی ظاہر کی تھی کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن، سوشل ڈسٹنسنگ اوردیگرہدایات پرسختی سے عمل کریں گے، اس کے علاوہ وہ مسلسل ملک کے مختلف مسلم مذہبی رہنماؤں،مذہبی-سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے رابط وبات چیت کر رہے ہیں۔خیال رہے ملک کے مختلف وقف بورڈز کے تحت 7 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ مساجد، عید گاہ، درگاہ، امام باڑے اور دیگر مذہبی و سماجی مقامات ہیں۔مسٹر نقوی نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں ہمیں صحت کے اہلکاروں، سیکورٹی فورسز، انتظامیہ کے حکام، صفائی ملازمین سے تعاون کرنا چاہئے، وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہماری صحت و سلامتی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ قرنطینہ، آئیسولیشن سینٹروں کے حوالہ سے پھیلائی جا رہی افواہوں کو بھی ہمیں ختم کرنا چاہئے، لوگوں میں بیداری پیدا کرنی چاہئے کہ ایسے مراکز لوگوں، ان کے خاندان اورمعاشرے کو کسی بھی طرح کے انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے چیلنجوں کے پیش نظر ملک کے تمام مندروں، گرودواروں، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی و سماجی مقامات پر بھیڑ بھاڑ والی تمام مذہبی وسماجی سرگرمیاں رُکی ہوئی ہیں۔

اسی طرح تمام مساجد اور دیگر مسلم مذہبی مقامات پر کسی بھی طرح کی بھیڑ بھاڑ والی مذہبی سرگرمی نہیں ہو رہی ہے۔ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک نے بھی رمضان المبارک میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر بھیڑ بھاڑ والی سرگرمیوں پر روک لگا رکھی ہے اور نماز، افطاراوردیگر مذہبی فرائض گھروں پر ہی رہ کر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ نقوی نے کہا کہ لوگوں کے تعاون نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہندوستان کو کافی راحت دی ہے لیکن چیلنجز اب بھی کم نہیں ہیں۔ ان چیلنجوں پر فتح تب ہی حاصل کی جا سکتی ہے جب ہم مرکز اور ریاستی حکومتوں کی تمام ہدایات پرسختی اورمستعدی سے عمل کرتے رہیں گے۔


Share: